ابنا: شام کے وزیرخارجہ ولید المعلم نے اپنے ملک کے صدر بشّار اسد کے جاری اصلاحاتی پروگرام اور اقوام متحدہ نیز عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان کے ساتھہ دمشق کے تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ممالک، شام کے خلاف نفسیاتی جنگ سے دمشق کو جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتے ۔
گذشتہ چند روز کے دوران امریکہ۔ آسٹریلیاء۔کینیڈا۔اسپین ۔اٹلی جرمنی اور فرانس نے شام کے حکومت مخالفین کی حمایت اور اس ملک کے خلاف نفسیاتی جنگ کا ایک نیا مرحلہ شروع کرنے کی غرض سے دمشق سے اپنے سفیروں اور دیگر سفارتکاروں کو واپس بلالیا جبکہ ترکی کی وزارت خارجہ نے بھی شام کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے تمام شامی سفارتکاروں کو 72 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس سے قبل شام نے مسلح مخالفین کی حمایت کرنے کی بناء پر برطانیہ سمیت بعض یورپی ملکوں سے اپنے سفراء کو واپس بلالیا تھا ۔
دریں اثنا شام کے اخبار الوطن نے صہیونی ریاست کے ساتھہ امریکہ اور یورپی ملکوں کے بڑھتے ہوئے خفیہ رابطوں کے بارے میں ایک رپورٹ شایع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یورپی ممالک خاصطور سے امریکہ اور صہیونی ریاست شام کے داخلی امور میں مداخلت اور باغیوں کو مالی مدد نیز ہتھیار فراہم کرکے علاقے پر تسلط جمانے کے مقصد سے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شام کے صدر بشّار اسد کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بدامنی کے ذمہ دار مسلح دہشتگرد ہیں جنھوں نے اپنی سرگرمیاں تیزتر کردی ہیں ۔
انھوں نے اقوام متحدہ نیز عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان کے ساتھہ گفتگو میں مزید کہا کہ شام میں کوفی عنان کے منصوبے کی کامیابی کا دارومدار دہشتگردانہ کاروائیوں اور مسلح افراد کیلئے یورپ و امریکہ نیز صہیونی ریاست کی ہمہ جہتی حمایت و مداخلت کے خاتمے پر ہے ۔ اس ملاقات میں کوفی عنان نے اپنے چھے نکاتی منصوبے پر عملدرآمد اور بین الاقوامی مبصرین کے ساتھہ تعاون کے حوالے سے حکومت شام کے اقدامات کی قدردانی کی ۔ ادھر شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کوفی عنان دہشتگردوں کی حمایت کرنے والے ملکوں کی دوغلی پالیسی کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے کہا ہے کہ شام میں مسلح دہشتگرد گروہوں نے کوفی عنان کے منصوبے کی کسی بھی شق پر عمل نہیں کیا ہے ۔
دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ نے شام کے حکومت مخالفین پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے ملک میں بیرونی فوجی مداخلت اور خانہ جنگی شروع کرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انھوں نے بعض ممالک پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ کوفی عنان کے منصوبے کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں ۔ اسی اثناء میں دمشق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر جناب محمد رضا رئوف شیبانی نے کوفی عنان کے منصوبے پر تہران کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، شام میں تشّدد کے خاتمے اور امن کی برقراری کی غرض سے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور تعاون کرنے کیلئے آمادہ ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں کہ شام میں حکومت اور قوم اپنے ملک کو آگے بڑھانے ۔
سنوارنے اور عوامی حاکمیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھہ تعاون کررہی ہیں اس ملک کی صورت حال غیر یقینی بنانے کیلئے مشتبہ اقدامات عمل میں لانا ایک ایسا عمل تھا کہ جس کا شام کے عوام اور فوج نے ایسا دنداں شکن جواب دیا کہ مختصر عرصے میں بحران و بدامنی کی حقیقی ماہیت آشکارہ ہوگئی ۔ اس سلسلے میں صیہونی حکومت ۔ عرب ممالک اور مغربی ممالک نیز ترکی کا اتحاد تشکیل پایا ہے تاکہ صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت و مزاحمت کے محاذ کے ایک رکن کی حیثیت سے شام کی حکومت کا تختہ الٹا جاسکے۔ یہ اتحاد شام کا ماحول تیونس۔ مصر اور لیبیاء کی مانند قرار دینے کی کوشش کررہا ہے تاکہ اپنے خیال میں شام میں بشّار اسد کی حکومت کے خاتمے اور مشرق وسطی میں تبدیلی لانے کیلئے اپنے پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا سکے ۔.......
/169